۱, خود اکثر حاجیوں کو بھی اپنے استقبال کا حد سے زیادہ اہتمام ہوتا ہے، اور پہلے سے انتظام کیا جاتا ہے جس قدر ہو سکے مجمع زیادہ ہو کہ حاجی صاحب کی شان اور عظمت ظاہر ہو فون پر فون کیے جاتے ہیں خاص ہدایت دی جاتی ہے جس کا منشا ریا اور فقر ہوتا ہے، ریا اور فخر سے سارا ثواب ضائع ہو جاتا ہے۔
۲, استقبال اور ساتھ لانے والے اپنے شوق اور جذبات محبت سے یہ اپنی بے وقوفی جہالت سے اس قدر اپے سے باہر ہو جاتے ہیں کہ ان کو دوسرے کی تکلیف اور اذیت کی بالکل پرواہ نہیں رہتی خوب دھکم دھکا ہوتی ہے بعض لوگوں کو چوٹ بھی لگ جاتی ہے لوگوں کو معلوم ہونا چاہیے استقبال اور ساتھ لانے زیادہ سے زیادہ مستحب ہے اور مسلمانوں کو تکلیف دینا حرام ہے اس مندوب کام کی وجہ سے حرام کا ارتکاب کرنا اہل عقل کے لیے ممکن نہیں، اور ایسے موقع پر سمجھ سے کام لینا چاہیے نہ خود بلاوجہ تکلیف اٹھاؤ نہ دوسروں کو تکلیف پہنچا کر گناہ کماؤ،
۳, بعض جگہ عورتیں بھی اسٹیشن پر جا کر استقبال کرتی ہیں مرد اور عورت کا میل جول اور بے پردگی اور بہت سی بری رسومات پائے جانے کی وجہ سے چھوڑنے کے قابل ہیں۔
فتاوی رحیمیہ
*۴, بعض جگہ حاجیوں کا جلوس نکالا جاتا ہے اس میں باجا music بھی ہوتا ہے بعض دفعہ حاجی کی طبیعت کمزور ہونے کی وجہ سے یا بیماری کی وجہ سے ملاقات کی کثرت اور مصافہ سے تکلیف ہوتی ہے مگر لوگ نہیں مانتے ایسے وقت صرف مجمعے کی شرکت کافی ہے کیونکہ ایسے وقت مسافہ اور معانقہ کرنا اور پھر دو تین بار کرنا سخت تکلیف کا باعث ہوتا ہے اگر حاجی بے چارہ شرم کی وجہ سے اس کا اظہار نہ کرے لیکن تم کو خود سوچنا چاہیے یہ کام راحت پہنچانے والا ہے یا تکلیف..*
واللہ اعلم بالصواب
مفتی عمران اسماعیل میمن حنفی
استاذ دارالعلوم رامپورہ سورت گجرات ہند
مسائل لنک
Post Top Ad
Your Ad Spot
Thursday, July 13, 2023
𝐈𝐬𝐥𝐚𝐦𝐢𝐜 𝐌𝐬𝐠 𝐎𝐟𝐟𝐢𝐜𝐢𝐚𝐥's Post
Tags
# Islamic Msg Official
Islamic Msg Official
Tags:
Islamic Msg Official
Subscribe to:
Post Comments (Atom)
Post Top Ad
Your Ad Spot

